9 اشعار

بے خواب نیند

Be Khwab Neend

بے خواب نیند

«بے خواب نیند» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

نہ جانے کون وہ بہروپیا ہےجو ہر شب

مری تھکی ہوئی پلکوں کی سبز چھاؤں میںطرح طرح کے کرشمے دکھایا کرتا ہے

لپکتی سرخ لپٹجھومتی ہوئی ڈالی

چمکتے تال کے پانی میں ڈوبتا پتھرابھرتے پھیلتے گھیروں میں تیرتے خنجر

اچھلتی گیند ربڑ کی سدھے ہوئے دو ہاتھسلگتے کھیت کی مٹی پہ ٹوٹتی برسات

عجیب خواب ہیں یہبنا وضو کئے سوئی نہیں کبھی میں تو

میں سوچتی ہوںکسی روز اپنی بھابی کے

چمکتے پاؤں کی پازیب توڑ کر رکھ دوںبڑی شریر ہے ہر وقت شور کرتی ہیں

کسی طرح سہی بے خواب نیند تو آئےگھڑی گھڑی کی مصیبت سے جان چھٹ جائے

— ندا فاضلی