بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
کلام: ندا فاضلی
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتاجو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈھتی رہتی ہیں نگاہیںکیا بات ہے میں وقت پے گھر کیوں نہیں جاتا
ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی
مہمان شاعر: ندا فاضلی
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتاجو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈھتی رہتی ہیں نگاہیںکیا بات ہے میں وقت پے گھر کیوں نہیں جاتا
تنہا تنہا دکھ جھیلیں گے محفل محفل گائیں گےجب تک آنسو پاس رہیں گے تب تک گیت سنائیں گے
تم جو سوچو وہ تم جانو ہم تو اپنی کہتے ہیںدیر نہ کرنا گھر آنے میں ورنہ گھر کھو جائیں گے