7 اشعار

دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے

Dariya ho ya pahad ho takrana chahiye

دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے

«دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئےجب تک نہ سانس ٹوٹے جیے جانا چاہئے

یوں تو قدم قدم پہ ہے دیوار سامنےکوئی نہ ہو تو خود سے الجھ جانا چاہئے

جھکتی ہوئی نظر ہو کہ سمٹا ہوا بدنہر رس بھری گھٹا کو برس جانا چاہئے

چوراہے باغ بلڈنگیں سب شہر تو نہیںکچھ ایسے ویسے لوگوں سے یارانا چاہئے

اپنی تلاش اپنی نظر اپنا تجربہرستہ ہو چاہے صاف بھٹک جانا چاہئے

چپ چپ مکان راستے گم سم نڈھال وقتاس شہر کے لیے کوئی دیوانا چاہئے

بجلی کا قمقمہ نہ ہو کالا دھواں تو ہویہ بھی اگر نہیں ہو تو بجھ جانا چاہئے

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں