5 اشعار

دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھ

Dekha hua sa kuchh hai to socha hua sa kuchh

دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھ

«دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھ» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھہر وقت میرے ساتھ ہے الجھا ہوا سا کچھ

ہوتا ہے یوں بھی راستہ کھلتا نہیں کہیںجنگل سا پھیل جاتا ہے کھویا ہوا سا کچھ

ساحل کی گیلی ریت پر بچوں کے کھیل ساہر لمحہ مجھ میں بنتا بکھرتا ہوا سا کچھ

فرصت نے آج گھر کو سجایا کچھ اس طرحہر شے سے مسکراتا ہے روتا ہوا سا کچھ

دھندلی سی ایک یاد کسی قبر کا دیااور میرے آس پاس چمکتا ہوا سا کچھ

— ندا فاضلی