دعا سلام میں لپٹی ضرورتیں مانگے
کلام: ندا فاضلی
دعا سلام میں لپٹی ضرورتیں مانگےقدم قدم پہ یہ بستی تجارتیں مانگے
کہاں ہر ایک کو آتی ہے راس بربادینئے سفر کی مسافت ذہانتیں مانگے
ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی
مہمان شاعر: ندا فاضلی
دعا سلام میں لپٹی ضرورتیں مانگےقدم قدم پہ یہ بستی تجارتیں مانگے
کہاں ہر ایک کو آتی ہے راس بربادینئے سفر کی مسافت ذہانتیں مانگے
دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئےجب تک نہ سانس ٹوٹے جیے جانا چاہئے
یوں تو قدم قدم پہ ہے دیوار سامنےکوئی نہ ہو تو خود سے الجھ جانا چاہئے