7 اشعار

دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے

Darya ho ya pahaad ho takrana chahiye

دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے

«دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئےجب تک نہ سانس ٹوٹے جیے جانا چاہئے

یوں تو قدم قدم پہ ہے دیوار سامنےکوئی نہ ہو تو خود سے الجھ جانا چاہئے

جھکتی ہوئی نظر ہو کہ سمٹا ہوا بدنہر رس بھری گھٹا کو برس جانا چاہئے

چوراہے باغ بلڈنگیں سب شہر تو نہیںکچھ ایسے ویسے لوگوں سے یارانا چاہئے

اپنی تلاش اپنی نظر اپنا تجربہرستہ ہو چاہے صاف بھٹک جانا چاہئے

چپ چپ مکان راستے گم سم نڈھال وقتاس شہر کے لیے کوئی دیوانا چاہئے

بجلی کا قمقمہ نہ ہو کالا دھواں تو ہویہ بھی اگر نہیں ہو تو بجھ جانا چاہئے

— ندا فاضلی