5 اشعار

نئی نئی آنکھیں ہوں تو ہر منظر اچھا لگتا ہے

Nayi nayi aankhen hon toh har manzar achha lagta hai

نئی نئی آنکھیں ہوں تو ہر منظر اچھا لگتا ہے

«نئی نئی آنکھیں ہوں تو ہر منظر اچھا لگتا ہے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

نئی نئی آنکھیں ہوں تو ہر منظر اچھا لگتا ہےکچھ دن شہر میں گھومے لیکن اب گھر اچھا لگتا ہے

ملنے جلنے والوں میں تو سب ہی اپنے جیسے ہیںجس سے اب تک ملے نہیں وہ اکثر اچھا لگتا ہے

میرے آنگن میں آئے یا تیرے سر پر چوٹ لگےسناٹوں میں بولنے والا پتھر اچھا لگتا ہے

چاہت ہو یا پوجا سب کے اپنے اپنے سانچے ہیںجو مورت میں ڈھل جائے وہ پیکر اچھا لگتا ہے

ہم نے بھی سو کر دیکھا ہے نئے پرانے شہروں میںجیسا بھی ہے اپنے گھر کا بستر اچھا لگتا ہے

— ندا فاضلی