5 اشعار

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو

Dhoop mein niklo ghataon mein naha kar dekho

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو

«دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے پرنس نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھوزندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو

صرف آنکھوں سے ہی دنیا نہیں دیکھی جاتیدل کی دھڑکن کو بھی بینائی بنا کر دیکھو

پتھروں میں بھی زباں ہوتی ہے دل ہوتے ہیںاپنے گھر کے در و دیوار سجا کر دیکھو

وہ ستارہ ہے چمکنے دو یوں ہی آنکھوں میںکیا ضروری ہے اسے جسم بنا کر دیکھو

فاصلہ نظروں کا دھوکہ بھی تو ہو سکتا ہےوہ ملے یا نہ ملے ہاتھ بڑھا کر دیکھو

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں