5 اشعار

دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی

Din saleeqe se uga raat thikane se rahi

دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی

«دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہیدوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی

چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیںزندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی

اس اندھیرے میں تو ٹھوکر ہی اجالا دے گیرات جنگل میں کوئی شمع جلانے سے رہی

فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کودور کی روشنی نزدیک تو آنے سے رہی

شہر میں سب کو کہاں ملتی ہے رونے کی جگہاپنی عزت بھی یہاں ہنسنے ہنسانے سے رہی

— ندا فاضلی