6 اشعار

دو چار گام راہ کو ہموار دیکھنا

Do chaar gaam raah ko hamwar dekhna

دو چار گام راہ کو ہموار دیکھنا

«دو چار گام راہ کو ہموار دیکھنا» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

دو چار گام راہ کو ہموار دیکھناپھر ہر قدم پہ اک نئی دیوار دیکھنا

آنکھوں کی روشنی سے ہے ہر سنگ آئینہہر آئنہ میں خود کو گنہ گار دیکھنا

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمیجس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا

میداں کی ہار جیت تو قسمت کی بات ہےٹوٹی ہے کس کے ہاتھ میں تلوار دیکھنا

دریا کے اس کنارے ستارے بھی پھول بھیدریا چڑھا ہوا ہو تو اس پار دیکھنا

اچھی نہیں ہے شہر کے رستوں سے دوستیآنگن میں پھیل جائے نہ بازار دیکھنا

— ندا فاضلی