6 اشعار

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے

Duniya jise kehte hain jaadu ka khilauna hai

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے

«دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہےمل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے

اچھا سا کوئی موسم تنہا سا کوئی عالمہر وقت کا رونا تو بے کار کا رونا ہے

برسات کا بادل تو دیوانہ ہے کیا جانےکس راہ سے بچنا ہے کس چھت کو بھگونا ہے

یہ وقت جو تیرا ہے یہ وقت جو میرا ہےہر گام پہ پہرا ہے پھر بھی اسے کھونا ہے

غم ہو کہ خوشی دونوں کچھ دور کے ساتھی ہیںپھر رستہ ہی رستہ ہے ہنسنا ہے نہ رونا ہے

آوارہ مزاجی نے پھیلا دیا آنگن کوآکاش کی چادر ہے دھرتی کا بچھونا ہے

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں