5 اشعار

ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے

Har ek baat ko chup chaap kyun suna jaaye

ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے

«ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائےکبھی تو حوصلہ کر کے نہیں کہا جائے

تمہارا گھر بھی اسی شہر کے حصار میں ہےلگی ہے آگ کہاں کیوں پتہ کیا جائے

جدا ہے ہیر سے رانجھا کئی زمانوں سےنئے سرے سے کہانی کو پھر لکھا جائے

کہا گیا ہے ستاروں کو چھونا مشکل ہےیہ کتنا سچ ہے کبھی تجربہ کیا جائے

کتابیں یوں تو بہت سی ہیں میرے بارے میںکبھی اکیلے میں خود کو بھی پڑھ لیا جائے

— ندا فاضلی