5 اشعار

ہر اک رستہ اندھیروں میں گھرا ہے

Har ek rasta andheron mein ghira hai

ہر اک رستہ اندھیروں میں گھرا ہے

«ہر اک رستہ اندھیروں میں گھرا ہے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

ہر اک رستہ اندھیروں میں گھرا ہےمحبت اک ضروری حادثہ ہے

گرجتی آندھیاں ضائع ہوئی ہیںزمیں پہ ٹوٹ کے آنسو گرا ہے

نکل آئے کدھر منزل کی دھن میںیہاں تو راستہ ہی راستہ ہے

دعا کے ہاتھ پتھر ہو گئے ہیںخدا ہر ذہن میں ٹوٹا پڑا ہے

تمہارا تجربہ شاید الگ ہومجھے تو علم نے بھٹکا دیا ہے

— ندا فاضلی