6 اشعار

ٹھہرے جو کہیں آنکھ تماشا نظر آئے

Thehre jo kahin aankh tamasha nazar aaye

ٹھہرے جو کہیں آنکھ تماشا نظر آئے

«ٹھہرے جو کہیں آنکھ تماشا نظر آئے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

ٹھہرے جو کہیں آنکھ تماشا نظر آئےسورج میں دھواں چاند میں صحرا نظر آئے

رفتار سے تابندہ امیدوں کے جھروکےٹھہروں تو ہر اک سمت اندھیرا نظر آئے

سانچوں میں ڈھلے قہقہے سوچی ہوئی باتیںہر شخص کے کاندھوں پہ جنازہ نظر آئے

ہر راہ گزر راستہ بھولا ہوا بالکہر ہاتھ میں مٹی کا کھلونا نظر آئے

کھوئی ہیں ابھی میں کے دھندلکوں میں نگاہیںہٹ جائے یہ دیوار تو دنیا نظر آئے

جس سے بھی ملیں جھک کے ملیں ہنس کے ہوں رخصتاخلاق بھی اس شہر میں پیشہ نظر آئے

— ندا فاضلی