5 اشعار

جہاں نہ تیری مہک ہو ادھر نہ جاؤں میں

Jahan na teri mahak ho udhar na jaaun main

جہاں نہ تیری مہک ہو ادھر نہ جاؤں میں

«جہاں نہ تیری مہک ہو ادھر نہ جاؤں میں» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

جہاں نہ تیری مہک ہو ادھر نہ جاؤں میںمری سرشت سفر ہے گزر نہ جاؤں میں

مرے بدن میں کھلے جنگلوں کی مٹی ہےمجھے سنبھال کے رکھنا بکھر نہ جاؤں میں

مرے مزاج میں بے معنی الجھنیں ہیں بہتمجھے ادھر سے بلانا جدھر نہ جاؤں میں

کہیں پکار نہ لے گہری وادیوں کا سکوتکسی مقام پہ آ کر ٹھہر نہ جاؤں میں

نہ جانے کون سے لمحہ کی بد دعا ہے یہقریب گھر کے رہوں اور گھر نہ جاؤں میں

— ندا فاضلی