5 اشعار

کسی سے خوش ہے کسی سے خفا خفا سا ہے

Kisi se khush hai kisi se khafa khafa sa hai

کسی سے خوش ہے کسی سے خفا خفا سا ہے

«کسی سے خوش ہے کسی سے خفا خفا سا ہے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

کسی سے خوش ہے کسی سے خفا خفا سا ہےوہ شہر میں ابھی شاید نیا نیا سا ہے

نہ جانے کتنے بدن وہ پہن کے لیٹا ہےبہت قریب ہے پھر بھی چھپا چھپا سا ہے

سلگتا شہر ندی خون کب کی باتیں ہیںکہیں کہیں سے یہ قصہ سنا سنا سا ہے

سروں کے سینگ تو جنگل کی دین ہوتے ہیںوہ آدمی تو ہے لیکن ڈرا ڈرا سا ہے

کچھ اور دھوپ تو ہو اوس سوکھ جانے تکوہ پیڑ اب کے برس بھی ہرا ہرا سا ہے

— ندا فاضلی