4 اشعار

جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا

Jitni buri kahi jaati hai utni buri nahin hai duniya

جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا

«جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیابچوں کے اسکول میں شاید تم سے ملی نہیں ہے دنیا

چار گھروں کے ایک محلے کے باہر بھی ہے آبادیجیسی تمہیں دکھائی دی ہے سب کی وہی نہیں ہے دنیا

گھر میں ہی مت اسے سجاؤ ادھر ادھر بھی لے کے جاؤیوں لگتا ہے جیسے تم سے اب تک کھلی نہیں ہے دنیا

بھاگ رہی ہے گیند کے پیچھے جاگ رہی ہے چاند کے نیچےشور بھرے کالے نعروں سے اب تک ڈری نہیں ہے دنیا

— ندا فاضلی