5 اشعار

جو ہو اک بار وہ ہر بار ہو ایسا نہیں ہوتا

Jo ho ek baar woh har baar ho aisa nahin hota

جو ہو اک بار وہ ہر بار ہو ایسا نہیں ہوتا

«جو ہو اک بار وہ ہر بار ہو ایسا نہیں ہوتا» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

جو ہو اک بار وہ ہر بار ہو ایسا نہیں ہوتاہمیشہ ایک ہی سے پیار ہو ایسا نہیں ہوتا

ہر اک کشتی کا اپنا تجربہ ہوتا ہے دریا میںسفر میں روز ہی منجدھار ہو ایسا نہیں ہوتا

کہانی میں تو کرداروں کو جو چاہے بنا دیجےحقیقت بھی کہانی کار ہو ایسا نہیں ہوتا

کہیں تو کوئی ہوگا جس کو اپنی بھی ضرورت ہوہر اک بازی میں دل کی ہار ہو ایسا نہیں ہوتا

سکھا دیتی ہیں چلنا ٹھوکریں بھی راہگیروں کوکوئی رستہ سدا دشوار ہو ایسا نہیں ہوتا

— ندا فاضلی