5 اشعار

چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں

Chahatein mausami parinde hain rut badalte hi laut jaate hain

چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں

«چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیںگھونسلے بن کے ٹوٹ جاتے ہیں داغ شاخوں پہ چہچہاتے ہیں

آنے والے بیاض میں اپنی جانے والوں کے نام لکھتے ہیںسب ہی اوروں کے خالی کمروں کو اپنی اپنی طرح سجاتے ہیں

موت اک واہمہ ہے نظروں کا ساتھ چھٹتا کہاں ہے اپنوں کاجو زمیں پر نظر نہیں آتے چاند تاروں میں جگمگاتے ہیں

یہ مصور عجیب ہوتے ہیں آپ اپنے حبیب ہوتے ہیںدوسروں کی شباہتیں لے کر اپنی تصویر ہی بناتے ہیں

یوں ہی چلتا ہے کاروبار جہاں ہے ضروری ہر ایک چیز یہاںجن درختوں میں پھل نہیں آتے وہ جلانے کے کام آتے ہیں

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں