5 اشعار

کوئی نہیں ہے آنے والا پھر بھی کوئی آنے کو ہے

Koi nahin hai aane wala phir bhi koi aane ko hai

کوئی نہیں ہے آنے والا پھر بھی کوئی آنے کو ہے

«کوئی نہیں ہے آنے والا پھر بھی کوئی آنے کو ہے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

کوئی نہیں ہے آنے والا پھر بھی کوئی آنے کو ہےآتے جاتے رات اور دن میں کچھ تو جی بہلانے کو ہے

چلو یہاں سے اپنی اپنی شاخوں پہ لوٹ آئے پرندےبھولی بسری یادوں کو پھر تنہائی دہرانے کو ہے

دو دروازے ایک حویلی آمد رخصت ایک پہیلیکوئی جا کر آنے کو ہے کوئی آ کر جانے کو ہے

دن بھر کا ہنگامہ سارا شام ڈھلے پھر بستر پیارامیرا رستہ ہو یا تیرا ہر رستہ گھر جانے کو ہے

آبادی کا شور شرابہ چھوڑ کے ڈھونڈو کوئی خرابہتنہائی پھر شمع جلا کر کوئی حرف سنانے کو ہے

— ندا فاضلی