5 اشعار

کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی

Kuch tabiyat hi mili thi aisi chain se jeene ki soorat na hui

کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی

«کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئیجس کو چاہا اسے اپنا نہ سکے جو ملا اس سے محبت نہ ہوئی

جس سے جب تک ملے دل ہی سے ملے دل جو بدلا تو فسانہ بدلارسم دنیا کو نبھانے کے لیے ہم سے رشتوں کی تجارت نہ ہوئی

دور سے تھا وہ کئی چہروں میں پاس سے کوئی بھی ویسا نہ لگابے وفائی بھی اسی کا تھا چلن پھر کسی سے یہ شکایت نہ ہوئی

چھوڑ کر گھر کو کہیں جانے سے گھر میں رہنے کی عبادت تھی بڑیجھوٹ مشہور ہوا راجا کا سچ کی سنسار میں شہرت نہ ہوئی

وقت روٹھا رہا بچے کی طرح راہ میں کوئی کھلونا نہ ملادوستی کی تو نبھائی نہ گئی دشمنی میں بھی عداوت نہ ہوئی

— ندا فاضلی