6 اشعار

نہ جانے کون سا منظر نظر میں رہتا ہے

Na jaane kaun sa manzar nazar mein rehta hai

نہ جانے کون سا منظر نظر میں رہتا ہے

«نہ جانے کون سا منظر نظر میں رہتا ہے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

نہ جانے کون سا منظر نظر میں رہتا ہےتمام عمر مسافر سفر میں رہتا ہے

لڑائی دیکھے ہوئے دشمنوں سے ممکن ہےمگر وہ خوف جو دیوار و در میں رہتا ہے

خدا تو مالک و مختار ہے کہیں بھی رہےکبھی بشر میں کبھی جانور میں رہتا ہے

عجیب دور ہے یہ طے شدہ نہیں کچھ بھینہ چاند شب میں نہ سورج سحر میں رہتا ہے

جو ملنا چاہو تو مجھ سے ملو کہیں باہروہ کوئی اور ہے جو میرے گھر میں رہتا ہے

بدلنا چاہو تو دنیا بدل بھی سکتی ہےعجب فتور سا ہر وقت سر میں رہتا ہے

— ندا فاضلی