7 اشعار

نشہ نشہ کے لئے ہے عذاب میں شامل

Nasha nasha ke liye hai azaab mein shamil

نشہ نشہ کے لئے ہے عذاب میں شامل

«نشہ نشہ کے لئے ہے عذاب میں شامل» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

نشہ نشہ کے لئے ہے عذاب میں شاملکسی کی یاد کو کیجے شراب میں شامل

ہر اک تلاش یہاں فاصلوں سے روشن ہےحقیقتیں کہاں ہوتی ہیں خواب میں شامل

وہ تم نہیں ہو تو پھر کون تھا وہ تم جیساکسی کا ذکر تو تھا ہر کتاب میں شامل

ہمیں بھی شوق ہے اپنی طرف سے جینے کاہمارا نام بھی کیجے عتاب میں شامل

اکیلے کمرے میں گلدان بولتے کب ہیںتمہارے ہونٹ ہیں شاید گلاب میں شامل

زمین روز کہاں معجزہ دکھاتی ہےمری نگاہ بھی ہوگی نقاب میں شامل

اسی کا نام ہے نغمہ اسی کا نام غزلوہ اک سکون جو ہے اضطراب میں شامل

— ندا فاضلی