4 اشعار

تنہا ہوئے خراب ہوئے آئنہ ہوئے

Tanha hue kharab hue aaina hue

تنہا ہوئے خراب ہوئے آئنہ ہوئے

«تنہا ہوئے خراب ہوئے آئنہ ہوئے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

تنہا ہوئے خراب ہوئے آئنہ ہوئےچاہا تھا آدمی بنیں لیکن خدا ہوئے

جب تک جیے بکھرتے رہے ٹوٹتے رہےہم سانس سانس قرض کی صورت ادا ہوئے

ہم بھی کسی کمان سے نکلے تھے تیر سےیہ اور بات ہے کہ نشانے خطا ہوئے

پر شور راستوں سے گزرنا محال تھاہٹ کر چلے تو آپ ہی اپنی سزا ہوئے

— ندا فاضلی