5 اشعار

نزدیکیوں میں دور کا منظر تلاش کر

Nazdeekiyon mein door ka manzar talash kar

نزدیکیوں میں دور کا منظر تلاش کر

«نزدیکیوں میں دور کا منظر تلاش کر» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

نزدیکیوں میں دور کا منظر تلاش کرجو ہاتھ میں نہیں ہے وہ پتھر تلاش کر

سورج کے ارد گرد بھٹکنے سے فائدہدریا ہوا ہے گم تو سمندر تلاش کر

تاریخ میں محل بھی ہے حاکم بھی تخت بھیگمنام جو ہوئے ہیں وہ لشکر تلاش کر

رہتا نہیں ہے کچھ بھی یہاں ایک سا سدادروازہ گھر کا کھول کے پھر گھر تلاش کر

کوشش بھی کر امید بھی رکھ راستہ بھی چنپھر اس کے بعد تھوڑا مقدر تلاش کر

— ندا فاضلی