19 اشعار

نظم بہت آسان تھی پہلے

Nazm Bahut Aasaan Thi Pehle

نظم بہت آسان تھی پہلے

«نظم بہت آسان تھی پہلے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

نظم بہت آسان تھی پہلےگھر کے آگے

پیپل کی شاخوں سے اچھل کےآتے جاتے

بچوں کے بستوں سے نکل کےرنگ بہ رنگی

چڑیوں کی چہکار میں ڈھل کےنظم مرے گھر جب آتی تھی

میرے قلم سے، جلدی جلدیخود کو پورا لکھ جاتی ہے

اب سب منظربدل چکے ہیں

چھوٹے چھوٹے چوراہوں سےچوڑے رستے نکل چکے ہیں

نئے نئے بازارپرانے گلی محلے نگل چکے ہیں

نظم سے مجھ تکاب کوسوں لمبی دوری ہے

ان کوسوں لمبی دوری میںکہیں اچانک

بم پھٹتے ہیںکوکھ میں ماؤں کے

سوتے بچے کٹتے ہیںمذہب اور سیاست

دونوںنئے نئے نعرے رٹتے ہیں

بہت سے شہروںبہت سے ملکوں سے

اب چل کرنظم مرے گھر جب آتی ہے

اتنی زیادہ تھک جاتی ہےمیرے لکھنے کی ٹیبل پر

خالی کاغذ کوخالی ہی چھوڑ کے رخصت ہو جاتی ہے

اور کسی فٹ پاتھ پہ جا کرشہر کے سب سے بوڑھے شہری کی

پلکوں پر!آنسو بن کر سو جاتی ہے

— ندا فاضلی