5 اشعار

پھر گویا ہوئی شام پرندوں کی زبانی

Phir goya hui shaam parindon ki zubani

پھر گویا ہوئی شام پرندوں کی زبانی

«پھر گویا ہوئی شام پرندوں کی زبانی» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

پھر گویا ہوئی شام پرندوں کی زبانیآؤ سنیں مٹی سے ہی مٹی کی کہانی

واقف نہیں اب کوئی سمندر کی زباں سےصدیوں کی مسافت کو سناتا تو ہے پانی

اترے کوئی مہتاب کہ کشتی ہو تہہ آبدریا میں بدلتی نہیں دریا کی روانی

کہتا ہے کوئی کچھ تو سمجھتا ہے کوئی کچھلفظوں سے جدا ہو گئے لفظوں کے معانی

اس بار تو دونوں تھے نئی راہوں کے راہیکچھ دور ہی ہم راہ چلیں یادیں پرانی

— ندا فاضلی