8 اشعار

پگھلتا دھواں

Pighalta Dhuan

پگھلتا دھواں

«پگھلتا دھواں» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

دور شاداب پہاڑی پہ بنا اک بنگلہلال کھپریلوں پہ پھیلی ہوئی انگور کی بیل

صحن میں بکھرے ہوئے مٹی کے راجا رانیمنہ چڑھاتی ہوئی بچوں کو کوئی دیوانی

سیب کے اجلے درختوں کی گھنی چھاؤں میںپاؤں ڈالے ہوئے تالاب میں کوئی لڑکی

گورے ہاتھوں میں سنبھالے ہوئے تکیے کا غلافان کہی باتوں کو دھاگوں میں سیے جاتی ہے

دل کے جذبات کا اظہار کیے جاتی ہےگرم چولھے کے قریں بیٹھی ہوئی اک عورت

ایک پیوند لگی ساڑی سے تن کو ڈھانپےدھندلی آنکھوں سے مری سمت تکے جاتی ہے

مجھ کو آواز پہ آواز دئیے جاتی ہےاک سلگتی ہوئی سگریٹ کا بل کھاتا دھواں

پھیلتا جاتا ہے ہر سمت مرے کمرے میں

— ندا فاضلی