6 اشعار

رات کے بعد نئے دن کی سحر آئے گی

Raat ke baad naye din ki sehar aayegi

رات کے بعد نئے دن کی سحر آئے گی

«رات کے بعد نئے دن کی سحر آئے گی» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

رات کے بعد نئے دن کی سحر آئے گیدن نہیں بدلے گا تاریخ بدل جائے گی

ہنستے ہنستے کبھی تھک جاؤ تو چھپ کے رو لویہ ہنسی بھیگ کے کچھ اور چمک جائے گی

جگمگاتی ہوئی سڑکوں پہ اکیلے نہ پھروشام آئے گی کسی موڑ پہ ڈس جائے گی

اور کچھ دیر یوں ہی جنگ سیاست مذہباور تھک جاؤ ابھی نیند کہاں آئے گی

میری غربت کو شرافت کا ابھی نام نہ دےوقت بدلا تو تری رائے بدل جائے گی

وقت ندیوں کو اچھالے کہ اڑائے پربتعمر کا کام گزرنا ہے گزر جائے گی

— ندا فاضلی