5 اشعار

سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو

Safar mein dhoop to hogi jo chal sako to chalo

سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو

«سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلوسبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو

کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیںتم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو

یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتامجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو

کہیں نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضاخود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو

یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیںانہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں