10 اشعار

سرحد پار کا ایک خط پڑھ کر

Sarhad Paar Ka Ek Khat Padh Kar

سرحد پار کا ایک خط پڑھ کر

«سرحد پار کا ایک خط پڑھ کر» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

دوا کی شیشی میںسورج

اداس کمرے میں چانداکھڑتی سانسوں میں رہ رہ کے

ایک نام کی گونج۔۔۔۔!تمہارے خط کو کئی بار پڑھ چکا ہوں میں

کوئی فقیر کھڑا گڑگڑا رہا تھا ابھیبنا اٹھے اسے دھتکار کر بھگا بھی چکا

گلی میں کھیل رہا تھا پڑوس کا بچہبلا کر پاس اسے مار کر رلا بھی چکا

بس ایک آخری سگریٹ بچا تھا پیکٹ میںاسے بھی پھونک چکا

گھس چکابجھا بھی چکا

نہ جانے وقت ہے کیا دور تک ہے سناٹافقط منڈیر کے پنجرے میں اونگھتا پنچھی

کبھی کبھی یونہی پنجے چلانے لگتا ہےپھر اپنے آپ ہی

دانے اٹھانے لگتا ہےتمہارے خط کو۔۔۔۔۔

— ندا فاضلی