5 اشعار

اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا

Uss ke dushman hain bahut aadmi achha hoga

اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا

«اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگاوہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا

اتنا سچ بول کہ ہونٹوں کا تبسم نہ بجھےروشنی ختم نہ کر آگے اندھیرا ہوگا

پیاس جس نہر سے ٹکرائی وہ بنجر نکلیجس کو پیچھے کہیں چھوڑ آئے وہ دریا ہوگا

مرے بارے میں کوئی رائے تو ہوگی اس کیاس نے مجھ کو بھی کبھی توڑ کے دیکھا ہوگا

ایک محفل میں کئی محفلیں ہوتی ہیں شریکجس کو بھی پاس سے دیکھو گے اکیلا ہوگا

— ندا فاضلی