5 اشعار

اٹھ کے کپڑے بدل گھر سے باہر نکل جو ہوا سو ہوا

Uth ke kapde badal ghar se bahar nikal jo hua so hua

اٹھ کے کپڑے بدل گھر سے باہر نکل جو ہوا سو ہوا

«اٹھ کے کپڑے بدل گھر سے باہر نکل جو ہوا سو ہوا» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

اٹھ کے کپڑے بدل گھر سے باہر نکل جو ہوا سو ہوارات کے بعد دن آج کے بعد کل جو ہوا سو ہوا

جب تلک سانس ہے بھوک ہے پیاس ہے یہ ہی اتہاس ہےرکھ کے کاندھے پہ ہل کھیت کی اور چل جو ہوا سو ہوا

خون سے تر بہ تر کر کے ہر رہ گزر تھک چکے جانورلکڑیوں کی طرح پھر سے چولھے میں جل جو ہوا سو ہوا

جو مرا کیوں مرا جو لٹا کیوں لٹا جو جلا کیوں جلامدتوں سے ہیں غم ان سوالوں کے حل جو ہوا سو ہوا

مندروں میں بھجن مسجدوں میں اذاں آدمی ہے کہاںآدمی کے لئے ایک تازہ غزل جو ہوا سو ہوا

— ندا فاضلی