5 اشعار

زمین دی ہے تو تھوڑا سا آسمان بھی دے

Zameen di hai to thoda sa aasman bhi de

زمین دی ہے تو تھوڑا سا آسمان بھی دے

«زمین دی ہے تو تھوڑا سا آسمان بھی دے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

زمین دی ہے تو تھوڑا سا آسمان بھی دےمرے خدا مرے ہونے کا کچھ گمان بھی دے

بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دےیہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زبان بھی دے

یہ کائنات کا پھیلاؤ تو بہت کم ہےجہاں سما سکے تنہائی وہ مکان بھی دے

میں اپنے آپ سے کب تک کیا کروں باتیںمری زباں کو کبھی کوئی ترجمان بھی دے

فلک کو چاند ستارے نوازنے والےمجھے چراغ جلانے کو سائبان بھی دے

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں