سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
کلام: ندا فاضلی
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلوسبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو
کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیںتم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو
ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی
مہمان شاعر: ندا فاضلی
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلوسبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو
کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیںتم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو
زمین دی ہے تو تھوڑا سا آسمان بھی دےمرے خدا مرے ہونے کا کچھ گمان بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دےیہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زبان بھی دے