5 اشعار

ذہانتوں کو کہاں کرب سے فرار ملا

Zehanaton ko kahan karb se faraar mila

ذہانتوں کو کہاں کرب سے فرار ملا

«ذہانتوں کو کہاں کرب سے فرار ملا» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

ذہانتوں کو کہاں کرب سے فرار ملاجسے نگاہ ملی اس کو انتظار ملا

وہ کوئی راہ کا پتھر ہو یا حسیں منظرجہاں بھی راستہ ٹھہرا وہیں مزار ملا

کوئی پکار رہا تھا کھلی فضاؤں سےنظر اٹھائی تو چاروں طرف حصار ملا

ہر ایک سانس نہ جانے تھی جستجو کس کیہر اک دیار مسافر کو بے دیار ملا

یہ شہر ہے کہ نمائش لگی ہوئی ہے کوئیجو آدمی بھی ملا بن کے اشتہار ملا

— ندا فاضلی