7 اشعار

ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے

Ḍasne lage haiñ khvāb magar kis se boliye

ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے

«ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئےمیں جانتی تھی پال رہی ہوں سنپولیے

بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کیاور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لیے

پلکوں پہ کچی نیندوں کا رس پھیلتا ہو جبایسے میں آنکھ دھوپ کے رخ کیسے کھولیے

تیری برہنہ پائی کے دکھ بانٹتے ہوئےہم نے خود اپنے پاؤں میں کانٹے چبھو لیے

میں تیرا نام لے کے تذبذب میں پڑ گئیسب لوگ اپنے اپنے عزیزوں کو رو لیے

خوش بو کہیں نہ جائے پہ اصرار ہے بہتاور یہ بھی آرزو کہ ذرا زلف کھولیے

تصویر جب نئی ہے نیا کینوس بھی ہےپھر طشتری میں رنگ پرانے نہ گھولیے

— پروین شاکر