6 اشعار

چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا

Chirāgh-e-rāh bujhā kyā ke rahnumā bhī gayā

چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا

«چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیاہوا کے ساتھ مسافر کا نقش پا بھی گیا

میں پھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہوئیوہ شخص آ کے مرے شہر سے چلا بھی گیا

بہت عزیز سہی اس کو میری دل داریمگر یہ ہے کہ کبھی دل مرا دکھا بھی گیا

اب ان دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیںوہ تانک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا

سب آئے میری عیادت کو وہ بھی آیا تھاجو سب گئے تو مرا درد آشنا بھی گیا

یہ غربتیں مری آنکھوں میں کیسی اتری ہیںکہ خواب بھی مرے رخصت ہیں رتجگا بھی گیا

— پروین شاکر