6 اشعار

اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے

Ashk aankh mein phir aṭak raha hai

اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے

«اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہےکنکر سا کوئی کھٹک رہا ہے

میں اس کے خیال سے گریزاںوہ میری صدا جھٹک رہا ہے

تحریر اسی کی ہے مگر دلخط پڑھتے ہوئے اٹک رہا ہے

ہیں فون پہ کس کے ساتھ باتیںاور ذہن کہاں بھٹک رہا ہے

صدیوں سے سفر میں ہے سمندرساحل پہ تھکن ٹپک رہا ہے

اک چاند صلیب شاخ گل پربالی کی طرح لٹک رہا ہے

— پروین شاکر