8 اشعار

اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے

Apni tanhaai mere naam pe aabaad kare

اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے

«اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرےکون ہوگا جو مجھے اس کی طرح یاد کرے

دل عجب شہر کہ جس پر بھی کھلا در اس کاوہ مسافر اسے ہر سمت سے برباد کرے

اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میںروز اک موت نئے طرز کی ایجاد کرے

اتنا حیراں ہو مری بے طلبی کے آگےوا قفس میں کوئی در خود مرا صیاد کرے

سلب بینائی کے احکام ملے ہیں جو کبھیروشنی چھونے کی خواہش کوئی شب زاد کرے

سوچ رکھنا بھی جرائم میں ہے شامل اب تووہی معصوم ہے ہر بات پہ جو صاد کرے

جب لہو بول پڑے اس کے گواہوں کے خلافقاضئ شہر کچھ اس باب میں ارشاد کرے

اس کی مٹھی میں بہت روز رہا میرا وجودمیرے ساحر سے کہو اب مجھے آزاد کرے

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں