7 اشعار

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے

Barish hui to phoolon ke tan chaak ho gaye

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے

«بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئےموسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے

بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میںکیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریںبچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاسسورج کی شہ پہ تنکے بھی بے باک ہو گئے

بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سبدریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے

سورج دماغ لوگ بھی ابلاغ فکر میںزلف شب فراق کے پیچاک ہو گئے

جب بھی غریب شہر سے کچھ گفتگو ہوئیلہجے ہوائے شام کے نمناک ہو گئے

— پروین شاکر