جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے
جنون شوق اب بھی کم نہیں ہےمگر وہ آج بھی برہم نہیں ہے
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورناتری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے
کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)
مہمان شاعر: اسرار الحق مجاز
جنون شوق اب بھی کم نہیں ہےمگر وہ آج بھی برہم نہیں ہے
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورناتری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے
کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میںیہ کس کے ہاتھ سے دامن چھڑا رہا ہوں میں
تمہیں تو ہو جسے کہتی ہے ناخدا دنیابچا سکو تو بچا لو کہ ڈوبتا ہوں میں
تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئےاس سعئ کرم کو کیا کہیے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئے
ہم عرض وفا بھی کر نہ سکے کچھ کہہ نہ سکے کچھ سن نہ سکےیاں ہم نے زباں ہی کھولی تھی واں آنکھ جھکی شرما بھی گئے
جنون شوق اب بھی کم نہیں ہےمگر وہ آج بھی برہم نہیں ہے
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورناتری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے
خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئیہاں لطف جب ہے پا کے بھی ڈھونڈا کرے کوئی
تم نے تو حکم ترک تمنا سنا دیاکس دل سے آہ ترک تمنا کرے کوئی
ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیانغمہ بر لب خم بہ سر بادہ بہ جام آ ہی گیا
اپنی نظروں میں نشاط جلوۂ خوباں لیےخلوتی خاص سوئے بزم عام آ ہی گیا
اجنبی!کبھی زندگی میں اگر اکیلا ہو
اور درد حد سے گزر جائےآنکھیں تری
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہحیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہ
بُھولا نہیں دل ہجر کے لمحات کڑے وہراتیں تو بڑی تھیں ہی مگر دن بھی بڑے وہ
خواب بکھرے ہیں سہانے کیا کیالٹ گئے اپنے خزانے کیا کیا
صرف ایک ترکِ تعلّق کے لئےتو نے ڈھونڈے ہیں بہانے کیا کیا