5 اشعار

دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا

Dil kā kyā hai voh toh chāhe gā musalsal milnā

دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا

«دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملناوہ ستم گر بھی مگر سوچے کسی پل ملنا

واں نہیں وقت تو ہم بھی ہیں عدیم الفرصتاس سے کیا ملیے جو ہر روز کہے کل ملنا

عشق کی رہ کے مسافر کا مقدر معلومشہر کی سوچ میں ہو اور اسے جنگل ملنا

اس کا ملنا ہے عجب طرح کا ملنا جیسےدشت امید میں اندیشے کا بادل ملنا

دامن شب کو اگر چاک بھی کر لیں تو کہاںنور میں ڈوبا ہوا صبح کا آنچل ملنا

— پروین شاکر