7 اشعار

دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے

Du'ā kā ṭūṭā huā harf sard-āh maiñ hai

دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے

«دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہےتری جدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے

ترے بدلنے کے با وصف تجھ کو چاہا ہےیہ اعتراف بھی شامل مرے گناہ میں ہے

عذاب دے گا تو پھر مجھ کو خواب بھی دے گامیں مطمئن ہوں مرا دل تری پناہ میں ہے

بکھر چکا ہے مگر مسکرا کے ملتا ہےوہ رکھ رکھاؤ ابھی میرے کج کلاہ میں ہے

جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئےوہ اک مکان ابھی تک مکیں کی چاہ میں ہے

یہی وہ دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھاہماری سال گرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے

میں بچ بھی جاؤں تو تنہائی مار ڈالے گیمرے قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں