5 اشعار

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا

Ek sūraj thā ke tāroñ ke gharāne se uṭhā

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا

«ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھاآنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا

کس سے پوچھوں ترے آقا کا پتہ اے رہواریہ علم وہ ہے نہ اب تک کسی شانے سے اٹھا

حلقۂ خواب کو ہی گرد گلو کس ڈالادست قاتل کا بھی احساں نہ دوانے سے اٹھا

پھر کوئی عکس شعاعوں سے نہ بننے پایاکیسا مہتاب مرے آئنہ خانے سے اٹھا

کیا لکھا تھا سر محضر جسے پہچانتے ہیپاس بیٹھا ہوا ہر دوست بہانے سے اٹھا

— پروین شاکر