5 اشعار

گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا

Gavāhī kaise ṭūṭtī mu'āmala ḳhudā kā thā

گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا

«گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھامرا اور اس کا رابطہ تو ہاتھ اور دعا کا تھا

گلاب قیمت شگفت شام تک چکا سکےادا وہ دھوپ کو ہوا جو قرض بھی صبا کا تھا

بکھر گیا ہے پھول تو ہمیں سے پوچھ گچھ ہوئیحساب باغباں سے ہے کیا دھرا ہوا کا تھا

لہو چشیدہ ہاتھ اس نے چوم کر دکھا دیاجزا وہاں ملی جہاں کہ مرحلہ سزا کا تھا

جو بارشوں سے قبل اپنا رزق گھر میں بھر چکاوہ شہر مور سے نہ تھا پہ دوربیں بلا کا تھا

— پروین شاکر