8 اشعار

گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو

Gulāb haath mein ho aankh mein sitāra ho

گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو

«گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہوکوئی وجود محبت کا استعارہ ہو

میں گہرے پانی کی اس رو کے ساتھ بہتی رہوںجزیرہ ہو کہ مقابل کوئی کنارہ ہو

کبھی کبھار اسے دیکھ لیں کہیں مل لیںیہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو

قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائےمحبتوں میں جو احسان ہو تمہارا ہو

یہ اتنی رات گئے کون دستکیں دے گاکہیں ہوا کا ہی اس نے نہ روپ دھارا ہو

افق تو کیا ہے در کہکشاں بھی چھو آئیںمسافروں کو اگر چاند کا اشارا ہو

میں اپنے حصے کے سکھ جس کے نام کر ڈالوںکوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو

اگر وجود میں آہنگ ہے تو وصل بھی ہےوہ چاہے نظم کا ٹکڑا کہ نثر پارہ ہو

— پروین شاکر