6 اشعار

کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی

Kū ba kū phail gaī bāt shanāsāī kī

کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی

«کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کیاس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نےبات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیابس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہےتجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی

اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھاروح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہےجاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں