6 اشعار

کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے

Khulī āñkhoñ maiñ sapnā jhānktā hai

کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے

«کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہےوہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے

تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میںمرا تن مور بن کر ناچتا ہے

مجھے ہر کیفیت میں کیوں نہ سمجھےوہ میرے سب حوالے جانتا ہے

میں اس کی دسترس میں ہوں مگر وہمجھے میری رضا سے مانگتا ہے

کسی کے دھیان میں ڈوبا ہوا دلبہانے سے مجھے بھی ٹالتا ہے

سڑک کو چھوڑ کر چلنا پڑے گاکہ میرے گھر کا کچا راستہ ہے

— پروین شاکر