7 اشعار

کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے

Kuchh faisla toh ho ke kidhar jānā chāhiye

کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے

«کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیےپانی کو اب تو سر سے گزر جانا چاہیے

نشتر بدست شہر سے چارہ گری کی لواے زخم بے کسی تجھے بھر جانا چاہیے

ہر بار ایڑیوں پہ گرا ہے مرا لہومقتل میں اب بہ طرز دگر جانا چاہیے

کیا چل سکیں گے جن کا فقط مسئلہ یہ ہےجانے سے پہلے رخت سفر جانا چاہیے

سارا جوار بھاٹا مرے دل میں ہے مگرالزام یہ بھی چاند کے سر جانا چاہیے

جب بھی گئے عذاب در و بام تھا وہیآخر کو کتنی دیر سے گھر جانا چاہیے

تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لےایسے سخن فروش کو مر جانا چاہیے

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں